ایک بے ترتیب دفتری میز پر شپنگ انوائس، ڈیسک کیلکولیٹر اور پڑھنے کے چشمے کا جوڑا۔
← مضامینتائیوان قانونی معلومات

تائیوانی خریدار نے رقم روکی: پاکستانی برآمد کنندہ، میعاد اور راستے

6 منٹ

علامتی تصویر؛ یہ کسی حقیقی مقدمے، شخص یا دستاویز کو نہیں دکھاتی۔

تائیوان کے قانونِ مدنی میں تاجر کی بیچی ہوئی اشیا کی قیمت کا دعویٰ دو سال تک نہ اٹھایا جائے تو ختم ہو جاتا ہے (دفعہ 127 کی شق 8)، اور مدت اس دن سے چلتی ہے جب رقم مانگی جا سکتی تھی (دفعہ 128)۔ پاکستانی بیچنے والے کے لیے اس سے پہلے ایک سوال ہے: اس سودے پر تائیوان کا قانون لاگو بھی ہے؟

پاکستانی قانون کا قیاس اور آخری تاریخ

دعوے کی میعاد اسی قانون سے دیکھی جاتی ہے جو اس لین دین پر لاگو ہو (غیر ملکی عنصر والے دیوانی معاملات کے قانون کی دفعہ 36)۔ قانون کے انتخاب کا واضح اور معتبر اتفاق ہو تو منتخب قانون لاگو ہوتا ہے۔ ایسا اتفاق نہ ہو، یا انتخاب منتخب قانون کے مطابق باطل ہو، تو سب سے قریبی تعلق والا قانون لاگو ہوتا ہے، اور اگر معاملے کی کوئی ذمہ داری اس کی خاص پہچان ہو تو اسے اٹھانے والے فریق کے موطن کا قانون قریب ترین مانا جاتا ہے (دفعہ 20)۔ مال کی سپردگی کو بیع کی پہچان مان لیا جائے تو یہ قیاس بیچنے والے کے پاکستانی موطن کی طرف جا سکتا ہے۔

کراچی کے ایک برآمد کنندہ کی آخری انوائس کی مقررہ تاریخ کو سترہ مہینے گزر چکے ہیں (فرضی مثال)۔ تائیوان کا قانون لاگو ہو تو کتنا وقت بچا؟ سات مہینے۔ پاکستانی قانون میں مدت کتنی ہے، یہ یہاں بیان نہیں کیا گیا؛ اس کا جواب پاکستانی وکیل سے لیں۔ دونوں جواب آنے تک چھوٹی تاریخ کو اپنی آخری تاریخ سمجھیں۔

خریدار قانونی طور پر کون ہے

پرچیز آرڈر، کمرشل انوائس اور بل آف لیڈنگ پر ایک ہی کمپنی کا نام ہے؟ آرڈر دینے والی، مال وصول کرنے والی اور رقم ادا کرنے والی کمپنیاں الگ ہو سکتی ہیں۔ تائیوانی کمپنی کا نام، کاروباری دائرہ، مقام، ڈائریکٹروں اور مینیجروں کے نام اور سرمایہ ایسی معلومات ہیں جنھیں کوئی بھی شخص متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتا ہے (کمپنی قانون کی دفعہ 393)۔

رجسٹرڈ پتہ خاص طور پر اہم ہے۔ ادائیگی کے حکم کی تعمیل بیرونِ ملک یا اشتہار کے ذریعے کرنی پڑے تو یہ راستہ نہیں چلتا (دیوانی طریقہ کار قانون کی دفعہ 509)، اور حکم جاری ہونے کے بعد تین ماہ میں خریدار تک تعمیل نہ ہو تو حکم ختم ہو جاتا ہے (دفعہ 515)۔ خریدار کسی غیر ملکی گروپ کی تائیوانی شاخ ہو یا الگ ذیلی کمپنی، تو ذمہ دار فریق بدل جاتا ہے؛ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے تائیوان میں داخلے پر اردو تحریر میں دونوں کا فرق بیان ہے۔

یاد دہانی کی حد چھ ماہ ہے

مطالبہ، قرض کا اعتراف اور مقدمہ میعاد کو منقطع کرتے ہیں۔ ادائیگی کے حکم کی درخواست، مصالحت کی درخواست اور ثالثی کے سپرد کرنا بھی مقدمے کے برابر ہیں (دفعہ 129)؛ مگر ادائیگی کے حکم کی درخواست واپس ہو، مسترد ہو یا حکم ختم ہو جائے تو یہ اثر نہیں رہتا (دفعہ 132)۔ مطالبہ اکیلا کمزور ہے۔ اس کے بعد چھ ماہ میں مقدمہ نہ ہو تو انقطاع ہوا ہی نہیں مانا جاتا (دفعہ 130)۔ "اگلے ہفتے ادا کریں گے" جیسا جواب آتا رہے، تب بھی اگلے عدالتی قدم کی تاریخ لکھ کر رکھیں۔

خریدار کا واٹس ایپ یا ای میل پیغام اگر قرض کو مانتا ہو تو اعتراف بن سکتا ہے؛ "بات چیت جاری ہے" ضروری نہیں کہ اعتراف بنے۔ پوری چیٹ محفوظ رکھیں، تاریخ اور بھیجنے والے کے نام سمیت۔

ادائیگی کا حکم اور عارضی قرقی

معین رقم کے لیے عدالت سے ادائیگی کا حکم (支付命令) مانگا جا سکتا ہے (دفعہ 508)۔ عدالت خریدار کو سنے بغیر فیصلہ کرتی ہے (دفعہ 512)، اس لیے دعوے کو ثبوتوں سے ظاہر کرنا ہوتا ہے (釋明، دفعہ 511)۔ عدالتی فیس 500 نیو تائیوان ڈالر ہے (دفعہ 77-19)۔ بیچنے والے کی اپنی ذمہ داری باقی ہو؟ تب یہ راستہ بند ہے۔

مرحلہنتیجہ
تعمیل کے بعد 20 دنخریدار بغیر وجہ بتائے اعتراض کر سکتا ہے (دفعہ 516)
اعتراض آ جائےحکم اس حد تک ختم؛ درخواست مقدمے یا مصالحت کی درخواست مانی جاتی ہے (دفعہ 519)
اعتراض نہ آئےحکم عملدرآمد کی بنیاد بنتا ہے؛ خریدار قرض کے نہ ہونے کا تصدیقی مقدمہ کر سکتا ہے، اور عدالت ضمانت لے کر عملدرآمد روک سکتی ہے (دفعہ 521)

اگر اندیشہ ہو کہ خریدار اثاثے ہٹا دے گا تو عارضی قرقی (假扣押) الگ درخواست ہے (دفعہ 522)۔ شرط یہ ہے کہ بعد میں عملدرآمد ناممکن یا بہت مشکل ہونے کا اندیشہ ہو (دفعہ 523)۔ دعویٰ اور اس اندیشے کی وجہ دونوں ظاہر کرنی پڑتی ہیں، اور عدالت ضمانت بھی مانگ سکتی ہے (دفعہ 526)۔ فیس 1,000 نیو تائیوان ڈالر ہے (دفعہ 77-19)۔

معاہدے میں ثالثی یا عدالت کی شق ہو تو

پاکستان یا کسی تیسرے ملک میں ہوا ثالثی کا فیصلہ عدالت سے تسلیم کرایا جائے تو اسے عدالتی فیصلے جیسی حیثیت اور عملدرآمد کی بنیاد ملتی ہے (ثالثی قانون کی دفعہ 47)۔ جس ملک میں فیصلہ ہوا وہ تائیوان کے ثالثی فیصلوں کو تسلیم نہ کرتا ہو تو عدالت درخواست مسترد کر سکتی ہے (دفعہ 49 کی شق 2)۔ غیر ملکی عدالتی فیصلے کے لیے بھی شرطوں میں "باہمی تسلیم" شامل ہے (دیوانی طریقہ کار قانون کی دفعہ 402)۔ پاکستان کے ساتھ یہ شرط پوری ہوتی ہے یا نہیں، یہ جانچا نہیں گیا۔ ہر مقدمے میں الگ دیکھا جاتا ہے۔

جائزے کے لیے wei@hoveringlaw.com.tw پر یا رابطہ صفحے کے ذریعے لکھا جا سکتا ہے۔ مشاورت انگریزی، چینی، جاپانی یا کوریائی میں ہوتی ہے؛ اردو میں مشاورت کا وعدہ نہیں ہے، زبان کا انتظام پہلے طے کیا جائے گا۔ پہلی ای میل میں غیر حساس خلاصہ، خریدار کا نام (مفادات کے ٹکراؤ کی جانچ کے لیے)، تائیوان سے تعلق اور قریب ترین تاریخ کافی ہے، جیسے آخری انوائس کی مقررہ تاریخ اور آخری تحریری مطالبے کی تاریخ۔ شناختی دستاویزات کی کاپیاں، بینک کی تفصیل اور مکمل اصل کاغذات پہلی ای میل میں نہ بھیجیں۔ ای میل بھیجنے سے وکیل اور موکل کا رشتہ نہیں بنتا۔

ماخذ

24 اکتوبر 2026 کو جانچا گیا۔ تائیوان کی وزارتِ انصاف کے قانونی ڈیٹا بیس کے چینی متن کو معیار مانا گیا ہے۔

عام سوالات

کیا تائیوانی خریدار کے خلاف مال کی قیمت کا دعویٰ ہمیشہ دو سال میں ختم ہو جاتا ہے؟
نہیں۔ پہلے یہ طے ہوتا ہے کہ کون سا قانون لاگو ہے۔ تائیوان کا قانون لاگو ہو تو قانونِ مدنی کی دفعہ 127 کی شق 8 تاجر کی دی ہوئی اشیا کی قیمت کے دعوے کے لیے دو سال رکھتی ہے، اور مدت اس وقت سے چلتی ہے جب دعویٰ کیا جا سکتا ہو (دفعہ 128)۔ قانون کا واضح اور معتبر انتخاب نہ ہو، یا انتخاب منتخب قانون کے مطابق باطل ہو، تو غیر ملکی عنصر والے دیوانی معاملات کے قانون کی دفعہ 20 کی شق 2 کے مطابق سب سے قریبی تعلق والا قانون لاگو ہوتا ہے، اور شق 3 کا قیاس معاملے کی پہچان بننے والی ذمہ داری اٹھانے والے فریق کے موطن کے قانون کی طرف جاتا ہے، جو بیچنے والے کا پاکستانی قانون بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستانی قانون میں مدت کتنی ہے، اس کے لیے پاکستانی وکیل سے پوچھنا ہوگا۔
کیا خریدار کو یاد دہانی یا مطالبہ بھیج دینا میعاد بچانے کے لیے کافی ہے؟
مطالبہ میعاد کو منقطع کر سکتا ہے، مگر دفعہ 130 کے مطابق مطالبے کے بعد چھ ماہ میں مقدمہ نہ ہو تو انقطاع ہوا ہی نہیں مانا جاتا۔ ادائیگی کے حکم کی درخواست مقدمے کے برابر شمار ہوتی ہے (دفعہ 129)، لیکن درخواست واپس لی جائے، مسترد ہو یا حکم ختم ہو جائے تو انقطاع نہیں مانا جاتا (دفعہ 132)۔ خریدار کا قرض کو ماننے والا پیغام اعتراف بن سکتا ہے (دفعہ 129)، مگر اس کا فیصلہ پیغام کے الفاظ سے ہوتا ہے۔
کیا پاکستان میں بیٹھا بیچنے والا تائیوان میں ادائیگی کا حکم مانگ سکتا ہے؟
دیوانی طریقہ کار قانون کی دفعہ 509 میں درخواست گزار کے بیرونِ ملک ہونے کی عمومی رکاوٹ درج نہیں۔ رکاوٹ یہ ہے کہ درخواست گزار کی اپنی ذمہ داری باقی ہو، یا حکم کی تعمیل بیرونِ ملک کرنی پڑے، یا اشتہار کے ذریعے۔ حکم جاری ہونے کے بعد تین ماہ میں خریدار تک تعمیل نہ ہو تو حکم ختم ہو جاتا ہے (دفعہ 515)۔ خریدار تعمیل کے بعد 20 دن میں بغیر وجہ بتائے اعتراض کر سکتا ہے (دفعہ 516)؛ اعتراض آئے تو درخواست مقدمے یا مصالحت کی درخواست مانی جاتی ہے (دفعہ 519)۔

This article provides general information and is not legal advice on any individual matter.